جام آزادی

jaam e azadi

حُقوق سَلْب ، زمیں تنگ ، عزتیں پامال
یہ حُرِّیَت ہے ، کہ ہے اِنہدامِ آزادی

کلیجہ چھلنی ہے، پر ساتھ سب کا دینا ہے
چلو فریؔدی ! پیو تم بھی جامِ آزادی

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔