حُسَینِیَت کی بڑھی شان کربلا کے بعد
یزیدِیَت ہوئ بے جان کربلا کے بعد
مِلا ہے درس ہمیں صبر و استقامت کا
شجاعتیں چڑِھیں پروان کربلا کے بعد
یزید ، کِذب و ضلالت کا اک نشان بنا
حُسین سچ کے ہیں عنوان، کربلا کے بعد
فُزُوں ہے گلشنِ اٰلِ نبی کی شادابی
مٹا یزیدی خیابان ، کربلا کے بعد
چمک رہے ہیں شہیدوں کے نقشِ پا اب بھی
بشکلِ لؤلؤ و مَرجان کربلا کے بعد
قوی ہوا مرے اسلام کا ہر ایک شجر
پڑی ہے سب میں نئ جان کربلا کے بعد
حُسین جس پہ چلے ، وہ ڈگر قیامت تک
صداقتوں کی ہے پہچان کربلا کے بعد
یزیدیت ہےاندھیرا ، حسینیت اک نور
ہے تا ابد یہی میزان ، کربلا کے بعد
فروغِ نسلِ حُسینی ہے دن بدن جاری
یزیدی کِشت ہے ویران، کربلا کے بعد
مِنارِ جرأت و حقانیت ہوا روشن
گرے ہیں کذب کے ایوان کربلا کے بعد
حُسینی راہ پہ مرنا ہے زندگی کی دلیل
کیا یہ موت نے اعلان ، کربلا کے بعد
فریدی ! اِس کو شہیدوں نے خون سے سینچا
تو نِکھرا دیں کا گُلستان کربلا کے بعد







