داعئ حق ، ناشر دین و سنیت ، یادگار اسلاف ، نقیب فکر رضا ، امین فیوض مفتئ اعظم ہند و حافظ ملت ، فیض نگاہ سرکار کلاں، مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں اعظمی کی ساٹھ سالہ خدمات سلسلے میں ڈائمند جوبلی کے موقعے پر نذرانۂ محبت
روشن ہے چرخ دہر پہ تیرا سفر قمر
ہے اک نصابِ اوج ، تری رہ گذر قمر
زندہ رہیں گی تیری بصیرت کی تابشیں
اے آبروے محفلِ اہلِ ہنر قمر
تو ابرِ خیر بن کے زمانے پہ چھا گیا
قطرے ترے ہیں علم کے لعل و گہر قمر
اترے نہ کیوں دلوں میں ترا سوز گفتگو
اخلاص کا ہے تیری زباں میں اثر قمر
چشم عمل میں فکر رضا کی ہیں وسعتیں
تو ہے اکابرین کا فیضِ نظر قمر
زورِ بیاں میں ولولۂ حق کی ہے نمود
مایوسیوں کی شب میں ہے جس سے سحر قمر
ضعفِ بدن کی بھی جسے پرواہ کچھ نہیں
ہے ایسا نوجواں ترا عزمِ جگر قمر
اسلاف کے فدائی ، معاصر کے قدرداں
دائم کشادہ حلم و مروت کا در قمر
رنگِ ہنر سے نکھرے تری آل کا جمال
تازہ رہیں ترے گل و برگ و ثمر قمر
نذرانۂ فریدؔیِ خستہ قبول ہو
اے کارزارِ حق کے لواے ظفر قمر
#فریؔدی صدیقی مصباحی







