کربلا کے بعد

Karbala k baad

حُسَینِیَت کی بڑھی شان کربلا کے بعد
یزیدِیَت ہوئ بے جان کربلا کے بعد

مِلا ہے درس ہمیں صبر و استقامت کا
شجاعتیں چڑِھیں پروان کربلا کے بعد

یزید ، کِذب و ضلالت کا اک نشان بنا
حُسین سچ کے ہیں عنوان، کربلا کے بعد

فُزُوں ہے گلشنِ اٰلِ نبی کی شادابی
مٹا یزیدی خیابان ، کربلا کے بعد

چمک رہے ہیں شہیدوں کے نقشِ پا اب بھی
بشکلِ لؤلؤ و مَرجان کربلا کے بعد

قوی ہوا مرے اسلام کا ہر ایک شجر
پڑی ہے سب میں نئ جان کربلا کے بعد

حُسین جس پہ چلے ، وہ ڈگر قیامت تک
صداقتوں کی ہے پہچان کربلا کے بعد

یزیدیت ہےاندھیرا ، حسینیت اک نور
ہے تا ابد یہی میزان ، کربلا کے بعد

فروغِ نسلِ حُسینی ہے دن بدن جاری
یزیدی کِشت ہے ویران، کربلا کے بعد

مِنارِ جرأت و حقانیت ہوا روشن
گرے ہیں کذب کے ایوان کربلا کے بعد

حُسینی راہ پہ مرنا ہے زندگی کی دلیل
کیا یہ موت نے اعلان ، کربلا کے بعد

فریدی ! اِس کو شہیدوں نے خون سے سینچا
تو نِکھرا دیں کا گُلستان کربلا کے بعد

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔