ملک کو ظلم و نفرت ،، تعصب و تنگ نظری ،، جہالت و غریبی سے نجات دلانے کے
لیے عزم نو کے ساتھ اٹھنے کا دن
گلشنِ ہند کو شعلوں سے بچانا ہوگا
آتشِ بغض وعداوت کو بُجھانا ہوگا
زخم کھائے ہوئے لوگوں کو دلاکر انصاف
دامن ہند کا ” ہر داغ ” مٹانا ہوگا
ختم ہوں ظلم کے اسباب و عوامل سارے
ہر مُدَبِر کو، قدم اِس پہ اٹھانا ہوگا
جشنِ آزادی، حقیقت میں منانے کیلیے
پیارکا دیپ، ہر اک دل میں جلانا ہوگا
دوہرامعیار، حکومت کے رویّے میں نہ ہو
رنگ اور نسل کا ہر بھید مٹانا ہوگا
پَرچَمِ ہند میں ہیں سب کی وفا کے دھاگے
ہاں یہ کہہ لو کوی”تانا” کوی "بانا” ہوگا
مُنصِفِی پر، نہ سیاست کا ہو کوی سایہ
عدلِ مختار کو، کُرسی پہ بٹھانا ہوگا
بُو نہ آئے، کسی مجرم کی طرفداری کی
ایسا ماحول ، عدالت کا بنانا ہوگا
تاکہ اِس ملک سے مضبوط ہو سب کا رشتہ
"تیرے” میرے” کی جسارت کو بھگانا ہوگا
خودحکومت بھی مُلَوِث ہے فسادات میں آج
تخت سے ایسے شریروں کو ہٹانا ہوگا
"حرفِ علت” کی طرح، کوئی نہ ساقط ہو یہاں
مستقل طورسے، حق سبکا دلانا ہوگا
آج کے دن بھی ہیں مظلوم کی آنکھیں بھیگی
زخمی ہونٹوں پہ بهلا کیسے ترانہ ہوگا
پھول مقتول ہیں، اور خارہیں خونخوار یہاں
باغباں سن ! تجھے یہ جبر مٹانا ہوگا
آؤ ! ہم مل کےسبھی اہل وطن ساتھ چلیں
ہم قدم ہو کے ،، خزاؤں کو ہَرانا ہوگا
یاد رکھنی ہے، شہیدانِ وطن کی سیرت
سرفروشی کا ہنر ، ہمکو دکھانا ہوگا
گلشنِ امن و اماں ہوگی، ہماری دھرتی
بس ہمیں، باہمی رنجش کو بھلانا ہوگا
ہر قدم پر ہو جہاں سب کی بھلائ کا خیال
فکر و فن کو اُسی رستے پہ چلانا ہوگا
نسخۂ علم ہے، سارے غم دوراں کا علاج
خودنہ پڑھ پائے تو بچّوں کو پڑھانا ہوگا
مُلک و ملت کے لیے خیر ہو جسکے اندر
اے فریدی وہی دستور، نبھانا ہوگا







