چَشمِ کرم حضور

ہرطرف ظلم و جبر کے سُلگتے ماحول میں، والِٸ اُمّت ، انیس بیکساں ، چارہ سازِ درد و اَلَم ، شاہِ اُمَم ، رحمتِ عالم ، سَروَرِ کاٸنات ﷺ سے فریاد …
چَشمِ کرم حضور

اُمّت کی خستہ حالی پہ چشمِ کرم حضور
چاروں طرف ہیں شعلۂ ظلم و ستم حضور

اُمّید کی زباں پہ ہے اِمداد کی پُکار
ہے آپ ہی کےہاتھوں ہمارا بَھرَم حضور

کشمیر لُٹ رہا ہے ، فِلَسطیں لہو ہوا
کب تک یہ دیکھیں روتی نگاہوں سے ہم حضور

ایمان بیچ بیٹھے ، مسلمان حکمراں
اُنکو عزیز، دولت و زَر کے صَنَم حضور

ہیں مشرکوں کے ہاتھ مسلماں کے فیصلے
عیسائی اور یہودی بنے ہیں حَکَم حضور

مَہجُور کردییے گیے حق کے حمایتی
غدّارِ دیں کوبخشےگیے جامِ جَم حضور

اِس بات سے تڑپتے ہیں ایمان والے دل
در قبضۂ یہود ، خدا کا حَرَم حضور

بُت خانے بن رہے ہیں عَرَب کی زمین پر
ہیں پانی پانی، مومنِ خاکِ عَجَم حضور

حالات سے تڑپتا نہیں خانقاہی دل
اَٹکا ہوا ہے مَسندِ زَرّیں پہ دَم حضور

اَجداد کے اَمین ، فقط مالکِ زمین
اُنکو نہیں زَوالِ مسلماں کا غم حضور

درکار ہے حَمِیَّتِ دیں ، فکرِ اتحاد
مُسلِم کے پاس کم نہیں دام و دِرَم حضور

اے چارہ ساز ! آپ سے کچھ بھی چُھپا نہیں
کیا کیا سناٶں اور کروں کیا رقم حضور

گر آپ چاہیں پھر سے مَسرَّت کا آئے دور
گِر جاۓ خود اَلَم پہ ہی بَرقِ اَلَم حضور

ہے التجا کہ عظمتِ رَفتہ بَحَال ہو
لہراۓ پھر سے رِفعتِ حق کا عَلَم حضور

غافل دلوں میں جاگ اُٹھیں تازہ ولولے
جن سے دفاعِ حق ہو بَطَرزِ اَتَم حضور

پیدا ہوں پھر وراثتِ شبیر کے نقیب
کاٹیں یزیدیت کے جو دست و قدم حضور

سب اھلِ حق کو جوش ملے اتحاد کا
اربابِ دیں زمانے میں ہوں محترم حضور

توفیقِ خیر ، آپ کی چشم عطا سے ہو
اعزاز مومنوں کا بڑھے دم بَدَم حضور

اَعداۓ دیں ہلاک ہوں قَہرِ الٰہی سے
باطل کا ٹوٹے سارا ہی جاہ و حَشَم حضور

رکھ دیں سرِ تمنا پہ مقبولیت کا ہاتھ
دہلیز پر جَبینِ محبت ہے خَم حضور

سب کچھ فدا ہےآپ کی عزت پہ یا نبی
چاہت ہے جاں سے بڑھ کے خدا کی قَسَم حضور

صِدق و صَفا فریدی کے نُطق و اَدا میں ہو
ملّت کے کام آئیں زبان و قلم حضور

از فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی ، مسقط عُمان

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔