نذرِ عقیدت در بارگاہ دلبند مصطفی ،،، نور چشم مرتضی ،،، گل گلزار زہرا ،،، شبیہ سید الانبیاء ،،، آفتاب ولایت ،،، مہتاب امامت ،،، حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ ،،،
بموقع ، یوم ولادت ۱۵ رمضان المبارک ،،
"” "” "” "”
ہـے جلوۂ کردار ، بہت خوب حَسَن کا
کونین میں بـےمثل ہے اُسلوب حَسن کا
فردوس فـدا ، اُس گُلِ گلــزارِ عـلی پر
مومن کو ہراک رنگ ہے مرغوب، حسن کا
اربابِ نظر ، اب بھی اُنھیں دیکھ رہے ہیں
خورشیدِ امامت ، نہیں محجوب حسن کا
کیوں انکے رخِ ناز پہ شیدا نہ ہو عالَم
جب حُسن ہےسرکار سے منسوب حَسَن کا
جس سے کہ معطّر ہے مشامِ شہِ کونین
ہم سبکو گُل ذات ، ہے محبوب حسن کا
اوصاف سمائیں گے نہ قرطاس وقلم میں
اعجاز ، نہ ہوپائـے گا مکتوب حسن کا
ہےانکی رضامیں، مرے سرکارکی مرضی
امت کو سدا پیار ہے مطلوب حسن کا
شبَّر کی محبـت ہے بلندی کی ضمانت
عاشق، نہ کسی سےہوا مغلوب حسن کا
آمـادۂ پیـکار ہـے ہر موجِ ستـم سے
طوفاں سےسفینہ نہیں مرعوب حسن کا
ہـے ان کـے محبیـن پہ انعـام کی بارش
دشمن ہےسدا کیلیے مغضوب، حسن کا
دارین کی عزت ہے، یہ دیوانگی میری
صدشکر،فریدی بھی ہے مجذوب حَسَن کا
از فریدی صدیقی مصباحی ، بارہ بنکوی ، مسقط عمان،







