قرآن کریم

ramzan shayari by fareedi misbahi

سرچشمۂ ہدایت ..
مصدر فضل و کمال ..
نعمت لازوال ..
” قرآن کریم "

رحمت ونورکا، اک چشمۂ  جاری قرآں
باغِ عالَـم کیلئـے ، بادِ بَہـاری قرآں

آئ ہے نبضِ دوعالم میں حرارت اِس سے
بزمِ کونین میں ہـےجلوۂ باری ،، قرآں

مصدرِحکمت و دانائ ہے اک اک نقطہ
ہر اندھیرے میں ہے اک تابشِ کاری ،، قرآں

اِسکےہر رُخ میں ہے "لاریب”کی طلعت ایسی
تا ابد رکھتا ہے ،، ایقانِ  ہزاری قرآں

جاگ اٹھتی ہے تلاوت سے حیاتِ غافل
وجد کر دیتا ہے ہر ایک پہ طاری قرآں

تَھم کے رفتارِ زمانہ بھی اسے سنتی ہے
جھوم کرپڑھتےہیں جب، حافظ وقاری قرآں

ظلمتِ غم میں جلاتا ہے مسرت کے چراغ
مسکراہٹ سے بدل دیتا ہے زاری ،، قرآں

جسم وجاں،فکر ونظر،علم وہنر،سب مہکے
ہـے کمالات وفضائل کی وہ کیاری، قرآں

یہ جو آیا،توصحیفے ہوے سارے منسوخ
حشر تک ساری کتابوں پہ ہے بھاری قرآں

شب میں اترے تو”شبِ قدر” بنادے اُسکو
دن میں اترے، تو ہو اعزازِ نَہاری ،، قرآں

قبرمیں،حشرمیں، جنت میں رفیق وہمدم
ہـے بڑی پختہ یقیناً  تری یاری ،، قرآں

پاگئے کتنی بلندی، ترے صدقے حُفّاظ
سارے اعزاز ترے درپہ ہیں واری قرآں

تیری تعلیم سے کردارِ بشر نکھرا ہے
یعنی تقدیرِ اُمَـم تو نـے سنـواری ،، قرآں

تیرےاحزاب، زمانےمیں ہیں سب پہ غالب
فوج تیری، نہ کسی جنگ میں ہاری قرآں

غوث اورخواجہ، رضا ہیں ترےدر سے روشن
تجھ سے ہیں رازی ،غزالی و بخاری ،، قرآں

جو مِلا،جسکوملا، تیرے ذریعےسے مِلا
شوکتیں تجھ سےہیں عالَم کی یہ ساری قرآں

نقد رہتا ہے  سدا خدمت قرآں کا صلہ
نہیں رکھتا ہے کسی پر بھی اُدھاری قرآں

کیسے کیسے ہمیں اعزاز دییے ہیں تونے
جان و دل سے ہےتری شکر گزاری ،، قرآں

تازگی باغِ محبت کـو عـطـا کرتا ہـے
شجَرِ بغض و عداوت کو ہے آری ،، قرآں

ماننے والوں کو ہے خلد کا مژدہ اسمیں
جوہیں منکِر، اُنھیں کردیتا ہےناری، قرآں

جَوہرِ فکر ونظر، جو بھی فریدی کو ملا
سب ترے در کی ہے یہ فیض نگاری قرآں

°°°°°°

تابشِ کاری .. تیز روشنی
ایقان ہزاری .. بـے انتہا یقین
زاری .. پریشانی
اعزازِ نَہـاری .. دن کے لیے اعزاز
واری …. نچھاور، قربان
اُدھاری .. اُدھار ، قرض 

1 خیال ”قرآن کریم“ پر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔