احساسِ گناہ اور ندامت کے آنسـووں کـے ساتھ ، بارگاہ مولٰی میں خطاؤں کا اعتراف ، اور رب کو منانے کی کوشش
دل ہوگیا گناہوں سے پتھر مرے کریم
کردے اِسےسنوار کے گوہر مرے کریم
کـردار جـگمگائے ، عمـل کے جمـال سے
دے مجھکو پارسائ کے جوہر مرے کریم
بس تیری ہی رضاکیلئے ہر قدم اٹھے
ایسـا خلوص ہو مرے اندر مرے کریم
اپنی گناه گاری کا اقرار هے مجھے
خم ہے ندا متوں سے مرا سر مرے کریم
رنجیدہ وشکستہ و شرمندہ ہے جگر
کردے مرے شررکو، گُلِ تر مرے کریم
افسوس، نفسِ بد نےکیا ہے خراب حال
حاضر ہے یہ خطاؤں کا پیکر مرے کریم
لاریب ، مہربانی کےقابل نہیں ہوں میں
کر رحم ، بہرِشافعِ محشر مرے کریم
دوچارقطرے، ابرِنوازش کے ڈال دے
پائے سکون، حالتِ مضطر مرے کریم
ڈوباہوں غفلتوں کے اندھیرےمیں رات دن
ہو خـانـۂ حیـات ، منـور مـرے کریم
ہستی کاباغ، چشمۂ رحمت سے سینچ دے
کشتِ عمل ہوئ مری بنجر مرے کریم
پہنایا تو نےکتنوں کو غفران کا لباس
مجھ پر بھی ڈال عفوکی چادر، مرے کریم
صدقہ مجھے عطاہو، ترے صالحین کا
امید لیکے آیا ہوں در پر مرے کریم
مجھکو ہر اک مقام پہ توفیق خیر دے
بن جاؤں نیکیوں کا میں خوگر، مرے کریم
برسے کچھ ایسا جھوم کے بارانِ مغفرت
دُھل جائیں میرے جرموں کے دفتر مرے کریم
محروم رہ گیا تو کہاں جاوں گا بھلا
تیرےسوا نہیں ہے کوئ در مرے کریم
مل جائے میری قوم کو علم و عمل کا تاج
مُسلِم، ہوں کائنات کے افسر مرے کریم
اپنے کرم سے عظمتِ رفتہ بحال کر
ایمان والےپھر سےہوں برتر مرے کریم
اسلاف کی ڈگر پہ مسلمان سب چلیں
شان و وقار پھرہو میسر مرے کریم
کردار میں ہوں خالدو طارق کے ولولے
ہو قوم اِن جیالوں کی مظہر مرے کریم
جو مرد ہـے ، اسے بھی نگاہِ حیا ملے
پردےمیں آئےقوم کی دُختر مرے کریم
جس سےقوی ہوں شوکت اسلام کے ستون
فیضانِ اتحاد ہوگھرگھر مرے کریم
گلزارکردے وقت کے نمرودیوں کی آگ
ہر سمت ہیں تباہی کے منظر مرے کریم
ماحول آج سارا ہی کرب و بلا کا ہے
پھرسےہوں کامیاب” بَہتّر ” مرے کریم
آندھی کی زدپہ، عزتِ مسلِم کا ہے چراغ
دیدے اسے بلال کے تیور مرے کریم
ناکام ونامراد ہوں ، اسلام کے حریف
ہوجائیں کُند، کفر کے خنجر مرے کریم
اخلاص میں فریدی کو فردِ فرید کر
ٹوٹے, ریا وکِبر کی گاگر مرے کریم







