خاموش خانقاہیں غافل رہبر لٹتا کارواں

Lut ta kaarvan by fareedi

حسرت سے میں لٹتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں
رنجیدہ و بے تاب نظر دیکھ رہا ہوں

گَھٹتی ہوئ پُر امن زمیںنوں سے ہوں بیچین
بڑھتی ہوئی آتش کے شرر دیکھ رہا ہوں

پیر اپنے مریدوں میں ہی بس کھوئے ہوئے ہیں
ملت کے زوالوں کا سفر دیکھ رہا ہوں

قوت جنھیں حاصل ہے وہ افراد ہیں خاموش
مدھم سی صداؤں کا گزر دیکھ رہا ہوں

یہ عیش طلب خانقہی مِٹ کے رہے گی
کردار کے سب زیر و زبر دیکھ رہا ہوں

ڈیڑھ اینٹ کے ایوانِ ارادت سے نکلئے
اُس سمت ہے طوفاں کی نظر، دیکھ رہا ہوں

جو پشتِ انا پر کھڑے پر تول رہے ہیں
ٹوٹی ہوئی میں سب کی کمر دیکھ رہا ہوں

ملت کے ستاروں میں ہے جبتک یہ جدائی
تب تک میں اجالوں کا ضرر دیکھ رہا ہوں

جو آج کسی دوسرے مقتول پہ چُپ ہیں
کل انکے بھی کٹتے ہوئے سر دیکھ رہا ہوں

بھولے ہیں مسلمان، سبق بدر و احد کا
اِس واسطے یہ خوف یہ ڈر دیکھ رہا ہوں

شاید کہ جگا پاؤں میں اشعار سے اپنے
میں خفتہ شجاعت کے ہنر دیکھ رہا ہوں

مایوس فضا میں بھی جو آواز اٹھی ہے
کچھ کچھ ہی سہی اسکا اثر دیکھ رہا ہوں

سب کام تو ناکامی کے ہیں پھر بھی فریدی
امید لیے راہِ سحر دیکھ رہا ہوں

 

3 خیالات ”خاموش خانقاہیں غافل رہبر لٹتا کارواں“ پر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔