احتیاطی تدبیروں کے بجائے عرب ممالک میں اکثر مسجدیں مکمل بند کردی گئی ہیں، جمعہ یا کسی نماز کی حتی کہ مسجد میں جانے کی بھی بالکل اجازت نہیں ، آہ افسوس ایسے حالات میں جبکہ مسجدوں میں جاکر ذکر و عبادت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے…. تو مسجدیں مقفل ہیں ، اسی کے پیشِ نظر، دردِ دل کے ساتھ خانۂ خدا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اشعار …
اللہ کی عطاؤں کا در خانۂ خدا
دُکھ درد سے شفاؤں کا گھر خانۂ خدا
پاکیزگی کا ایک مکمل نصاب ہے
ہے دافعِ شُرور و شَرَر خانۂ خدا
خاکِ جہاں پہ باغِ جِناں ہیں یہ مسجدیں
محفوظ ہے بلاؤں سے ہر خانۂ خدا
جلوے یہاں طہارتِ روح وبدن کے ہیں
کرتا ہے ختم سارے ضرر خانۂ خدا
اِس سے بڑی پناہ کوئی ڈھونڈھ کر دکھاؤ
تم بند کر رہے ہو اگر خانۂ خدا
ڈر کر اسے ہی بند کیا، آہ آہ آہ
خود جبکہ دور کرتا ہے ڈر خانۂ خدا
افسوس سب سے پہلے اُسی پر کیا حصار
کیا دے رہا تھا تم کو ضرر خانۂ خدا
بندے یہاں پہ ذمۂ فضل خدا میں ہیں
ہے پاسبانِ وقتِ خَطَر خانۂ خدا
توبہ کریں گناہوں سے اور یہ دعا کریں
روکے نہ ہم پہ اپنی ڈگر خانۂ خدا
جب کوئ غم ستائے تو مسجد میں جائیے
ہے اک طبیبِ زخمِ جگر خانۂ خدا
شیطانی وسوسوں کو جگر سے نکال کر
چل پڑییے اُس طرف ، ہے جدھر خانۂ خدا
اُس سمت اٹھنے والے قدم پر ہیں نیکیاں
دیتا ہے جنتوں کا سفر خانۂ خدا
رنج و الم کے مارو ! چلو اُس پناہ میں
راحت کے بانٹتا ہے گُہر خانۂ خدا
مرنا بھی اُس جگہ پہ ہے صد رشکِ زندگی
ہے دائمی کرم کا نگر خانۂ خدا
اس کی زمیں گواہ بنے گی بروز حشر
نارِ جحیم سے ہے سِپَر خانۂ خدا
پاتا ہوں اُس کے حسن و تقدس سے تازگی
آتا ہے جب فریدی نظر خانۂ خدا







