اسلام کےخورشیدِ مُبیں ، حافظِ قرآں
ہیں فخرِ فلک، فخرِزمیں حافظِ قرآں
سینےمیں ہےقرآن کی دولت کا خزانہ
ہیں رب کی امانت کےامیں حافظ قرآں
انکـے لیـے دارین میں ہے تاجِ کرامت
ہیں قصرِ فضیلت کے مکیں حافظ قرآں
قرآں کا جمال ایسا ہے کردار کے اندر
ہیں سارےحسینوں سے حسیں حافظ قرآں
محشر میں عطاہوگا،انھیں اذنِ شفاعت
امت کے مددگار و معیں ، حافظ قرآں
آج انکی بڑائ ، کوئ سمجھے کہ نہ سمجھے
کل ہونگے یہی، تخت نشیں حافظ قرآں
یکتائے زمن ، انکے کمالوں کا چمن ہے
رکھتےہیں گُلِ صدق ویقیں حافظ قرآں
معمولی غذا ، ٹوٹی چٹائ پہ گذارہ
پھر بھی نہ ہوئے چِیں بہ جبیں حافظ قرآں
تب جاکے کہیں”لقمۂ تر” انکو ملا ہے
کھا کھا کےبنے”نانِ جَوِیں” حافظ قرآں
قرآن کا یہ حفظ ،، کرامت سے نہیں کم
خم آپ کے در پر ہے جبیں ، حافظ قرآں
ہرحال میں جینے کا ہنر آتا ہے ان کو
مایوس کبھی ہوتے نہیں ، حافظ قرآں
اسلام کی خدمت میں، اٹل انکے ارادے
رکھتےہیں عجب "عزمِ متیں” حافظِ قرآں
بیمارکو ملتی ہےشفا، انکی دعا سے
ہیں باعثِ تسکینِ حزیں ، حافظِ قرآں
ہم سب پہ یقینًا ، بڑا احسان ہے انکا
ہیں رہبر حق ، محسنِ دیں حافظ قرآں
اللہ کی رحمت کے اترتے ہیں خزانے
ہوتےہیں جہاں جلوہ نشیں حافظ قرآں
خدماتِ مدارس پہ فدا ہیں دل مومن
صدآفریں ، بنتے ہیں یہیں حافظِ قرآں
اُس شخص سےاللہ بھی ہوجاتا ہے ناراض
جس سے ہوےناراض کہیں، حافظ قرآں
تاحشر،وجود انکاچمکتا ہی رہے گا
ہیں خاتَمِ ملت کےنگیں، حافظ قرآں
سَر انکی عقیدت میں جھکا، توبھی فریدی
لےجائیں گے فردوسِ بریں حافظ قرآں
•••••••••
نانِ جَوِیں … جوکی روٹی … مجازا ، روکھی سوکھی … دال دلیا
چِیں بَجَبِیں … ماتھے پر شکن پڑنا … شکوہ شکایت







