دستورِ بندگی

ramzanul mubarak shayari by fareedi misbahi

خصوصی پیشکش ، برائے رمضان المبارک

 

اشکِ توبہ سے، ہر اک آنکھ کو دھویاجائے
دامنِ دل کو ، ندامت سـے بھـگویا جائے

چشمِ ہستی پہ نہ ہو ، کوئ حجابِ غفلت
ہوکے شرمندہ ہراک جرم پہ ، رویـا جـائـے

مسجدِ دل میں ہوں بیدار اذاں کے نغمے
جب بھی ہو وقتِ عبادت ، تو نہ سویا جائے

انقلاب آئے طبیعت میں ہمیشہ کے لیے
جوشِ رمضان کو ، فطرت میں سَمویا جائے

جس سے ہر سانس میں ہو یاد خدا کی تسبیح
دل کے دھاگے میں گُہر ، ایسا پرویا جائے

تاکہ اعمال میں آئے نہ ، ریا کی خشکی
بحرِ اخلاص میں ، ہستی کو ڈبویا جائے

جس کے پھولوں میں تکبرکا کوئ رنگ نہ ہو
بیـج ایسـا ،چمنِ فکر میں بویا جـائے

اے فریدی، چلو مصروفِ عبادت ہوجائیں
غفلتوں میں یونہی، یہ وقت نہ کھویا جائے

1 خیال ”دستورِ بندگی“ پر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔