کسانوں کا ساتھ دو

جفاکشی میں کسانوں کا رنگ ہے بے جوڑ
زمیں کے سینے سے فَصلِ اَناج کھینچتے ہیں

یہ جب بھی اٹھتے ہیں ظالم سے اپنا حق لینے
بڑی دلیری سے شاہوں کا راج کھینچتے ہیں

اے حکمرانو ! سنبھل جاؤ ، مانو اِن کی بات
یہ ضد پہ آئیں تو پھر تخت و تاج کھینچتے ہیں

زمانہ اِن سے سبق اتحاد کا سیکھے
یہ موج بن کے، صَفِ احتجاج کھینچتے ہیں

فریدی ساتھ دو اِن کا ، کہ اپنی محنت سے
یہی تو ہیں جو نظامِ سَماج کھینچتے ہیں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔