اسد کی لَلکار

اَسَد ہوں اپنے سینے میں دلِ خوددار رکھتا ہوں
جگر میں جوش اور آواز میں للکار رکھتا ہوں

اکیلا ہوں مگر لاکھوں پہ بھاری ہے مری ہمت
صلاح الدین ایوبی سا میں کردار رکھتا ہوں

لرزتا ہے مرے نعروں کو سن کر وقت کا خیبر
عُمَر کا حوصلہ ، اور جذبۂ کَرّار رکھتا ہوں

زباں کاٹو کہ لب سِل دو ، صدائے حق نہ ٹھہرے گی
ہر اک مشکل میں جرات کے لبِ اظہار رکھتا ہوں

حسینی ہوں، مرے تیور نکھرتے ہیں جفاؤں میں
یزید وقت کی بیعت سے میں انکار رکھتا ہوں

نہ ڈرتاہوں نہ چُھپتا ہوں، عداوت کی ہواؤں سے
چراغ اپنا ہمیشہ بَر سَرِ دیوار رکھتا ہوں

وطن اور قوم کی خدمت کا پرچم میں نے تھاما ہے
وطن کے دشمنوں پر اِسلیے یلغار رکھتا ہوں

فریدی کہدو اعدا سے نِہَـتّا مجھ کو مت سمجھیں
تمہارے خنجروں سے تیز تر گُفتار رکھتا ہوں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔