احتجاج کرنے والوں کا پیغام ۔۔۔ ہر ایک ظالم کے نام ۔۔
ظالم تجھے مٹائے گی شعلوں کی پرورش
اک دن تجھے رلائے گی شعلوں کی پرورش
ہَمسائے کا مکان ہی زَد پر نہ آئے گا
گھر تیرا بھی جلائے گی شعلوں کی پرورش
ہمکو گِرا کے تو بھی کھڑا رہ نہ پائے گا
خود تجھکو بھی گِرائے گی شعلوں کی پرورش
بربادیوں کی، ہوگی نئ داستاں رقَم
ایسا مزہ چکھائے گی شعلوں کی پرورش
رہ جائےگا دَھرا ، یہ سیاست کا سارا کھیل
سب کا لہو جلائے گی شعلوں کی پرورش
جب کرسکی نہ آتشِ نمرود ہمکو زیر
پھر آج کیا ڈرائےگی شعلوں کی پرورش
ہمکو دبا سکی نہ کسی کربلا کی آگ
اب کیا ہمیں دبائے گی شعلوں کی پرورش
ہم نے تو آگ کے کئ دریا کیے ہیں پار
کیا ہم کو آزمائے گی شعلوں کی پرورش
ظالم سبھی مٹیں گے، یکے بعد دیگرے
سبکو سبق سکھائے گی شعلوں کی پرورش
سب، راکھ پرکھڑے ہوے مَلتے رہیں گے ہاتھ
ایسا سَماں دکھائے گی شعلوں کی پرورش
بڑھتی ہی جائیں گی یونہی فتنوں کی گرمیاں
جب تک کرائ جائے گی شعلوں پرورش
بھارت کی خیر کے لیے ٹھنڈا کرو مزاج
ورنہ سدا لڑائے گی شعلوں کی پرورش
اِسطرح کیسے آگے بڑھے گا ہمارا ملک
پستی میں لیکے جائیگی شعلوں کی پرورش
اِتنا سمجھ ! کہ آگ کا مذہب کوئ نہیں
سبکی تباہی لا ئےگی شعلوں کی پرورش
ہم سب قدم ملا کے، چلو عہد یہ کریں
ہر طرح روکی جائے گی شعلوں کی پرورش
اُترے دلوں میں کاش، فریدی یہ گفتگو
ورنہ وطن کو ڈھائے گی شعلوں کی پرورش







