آہ .. ہمارے یہاں مساجد میں باجماعت نماز پر مکمل روک ہے، افطار و تراویح میں عجب اضطرابی کیفیت رہی، خالی مسجدیں اور خاموش مَناظر کے ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہی حالات ہیں ،،، جن سے اہل ایمان میں بڑی بے چینی ہے،، آہوں اور سسکیوں کے بیچ ان ساری کیفیات کو بصورت اشعار ملاحظہ فرمائیں… بطور خاص حُفاظ کرام کی نذر …
یہ تنہائیاں ، یہ وبا کی حصاریں
ہر اک سمت بغض و تعصب کی غاریں
رفیقوں سے فرقت، مساجد سے دوری
بھلا اِس طرح کیسے رمضاں گزاریں
کیا ہم نے افطار روتے سِسکتے
بہت یاد آئیں وہ پچھلی بہاریں
وہ رمضاں وہ مسجد میں قرآں کے نغمے
کہاں ہیں نمازی ، کہاں ہیں قطاریں
چلے جب تراویح کو ہم اکیلے
برسنے لگیں آنسوؤں کی پھواریں
دل مُضطرب سے صدا آرہی ہے
یہ گیسوے پیچیدہ کیسے سنواریں
اُٹھیں جامِ "لاتقنطوا” پی کے ہم سب
ردائے شکستہ دلی اب اتاریں
خدا ہم کو خالی نہ واپس کرے گا
نبی کے وسیلے سے دامن پَساریں
اگر چشمِ رحمت اٹھے مصطفیٰ کی
ابھی کُند ہوں، خنجرِ غم کی دھاریں
یقیں کرکے دیکھو، اَزَل سے یہ طے ہے
دعاؤں کے غلبے، بلاوں کی ہاریں
وہیں سے ہر اک رنج و غم دور ہو گا
فریدی چلو اپنے رب کو پکاریں







