طبیبوں کے جگر حیرت زدہ ہیں
دوا کے سلسلے بے فائدہ ہیں
نہ کام آئی بلندی اور ترقی
گرے سب طائرِ چَرخِ اَنا ہیں
ملا ہے خاک میں سارا تکبُّر
زمانےکےخدا بےدست و پا ہیں
سہارا خود ہوا ہے بے سہارا
صداؤں کے دہن ہی بے صدا ہیں
نظر میں ہیں قیامت کے مَناظِر
جدا باہم عزیز و اَقرَبا ہیں
سمجھ میں آئی دنیا کی حقیقت
بس اک جھونکے کے یہ باغ و بِنَا ہیں
ہوئے ہیں پَست دنیاوی وَسائل
پریشانی میں سب فرماں رَوا ہیں
وَبا کی شکل میں رب کا غضب ہے
پلٹ آئی ہیں مظلوموں کی آہیں
خدا نے کھینچ لی تھوڑی سی رسّی
مسیحا خود گرفتارِ بلا ہیں
وہ چاہے تو ابھی ہوں دُور سب غم
"کُرونا” کیا ہے اور آفات کیا ہیں
اُسی در پر چلو جھک جائیں ہم بھی
خَمیدہ سَر جہاں ارض و سَما ہیں
گناہوں سےکریں رو رو کے توبہ
طفیلِ مصطفیٰ امداد چاہیں
اِسی میں ہے علاج دردِ عالَم
نبی کی سنتیں راحت فَزا ہیں
ہم اپنائیں جو اسلامی طریقے
کُھلیں امن و اماں کی ہم پہ راہیں
الٰہی رحم کر ، فضل و کرم کر
تری جانب اٹھے دستِ دعا ہیں
صحت کی تازگی اُن کو عطا کر
وبا میں آج جو بھی مبتلا ہیں
مُطیعوں کو بھلا کیا غم فریدی
وہی مشکل میں ہیں جو بے وفا ہیں
بِنا… عمارت ، مکان ، بنیاد








ماشاء اللہ قادر الکلام شاعر ہیں. الفاظ کا استعمال اور ردیف و قافیہ کی جگل بندی تو کمال کرتے ہیں