کس داغ کو دھوئیں

Kis dagh ko dhoen

کس درد کا شکوہ کریں ، کس رنج پہ روئیں
کس زخم پہ مرہم رکھیں، کس داغ کو دھوئیں

اک بابری کیا ، زد پہ ہیں ملت کے سب آثار
غفلت کا نہیں وقت، کہ ہم چین سے سوئیں

افسوس مری قوم کی مستی نہیں جاتی
گھر لُوٹ لیں دشمن کہ ہمیں خوں میں ڈبوئیں

پھر نبضِ حمیت ہو مسلمانوں کی بیدار
غیرت کا لہو پیکرِ ہستی میں سموئیں

چلنا ہے اگر رفعت و عزت کی ڈگر پر
خود داری کے دانے چمن فکر میں بوئیں

کرنا ہے جو اسلام کی عظمت کا تحفظ
یکجائی کے دھاگے میں ہر اک دل کو پروئیں

ہر گام رہِ علم و عمل پر ہو فریدؔی
دنیا کی چکاچوند میں ہم لوگ نہ کھوئیں

#فریدی
#بابری مسجد

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔