❣ *اے بَنـدے*❣
*رحمٰن و رحیم مولٰی کاخطاب گنہگار بندوں کے نام*
میں نے اِس نظم کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ لکھا ہے ، اور اِسکو جتنی بار دہرایا ، آنسووں کے بغیر مکمل نہ کر سکا … آپ بھی پڑھیے اور اللہ کی رحمتوں میں کھوجائیے ….. فریدی مصباحی
لباسِ فخر و تکبر اُتار ! اے بندے
جھکادے آکے، سرِ انکسار، اے بندے
تری تمام خطائیں معاف کردونگا
اگرتو لائے دلِ شرمسار ، اے بندے
کُھلے ہیں تیرے لئے مغفرت کےدروازے
ہںےسچّی توبہ کا بس انتظار، اے بندے
ترے لئے ہی بنایا ہںے ہم نے استغفار
کہ صاف ہو،ترے دل کا غبار اے بندے
تری دعا مرے در پر کبھی نہ رد ہوگی
مجھےخلوص ویقیں سے پکار اے بندے
مرے قریب توآ، چھوڑ حبّ دنیا کو
کوئ نہ دے گا، مرےجیسا پیار اے بندے
میں تجھپہ ہوں،ترے ماں باپ سے زیادہ رحیم
کبھی نہ ہو ، مرے در سے فرار اے بندے
ترےلیےتوہیں "لاتقنطوا” کے پروانے
طلب سےتھک، نہ تمنا سے ہار اے بندے
پناہ لے”وَسِعَت رَحمَتِی ” کی چادر میں
قبول ہونگے ، یہاں اعتذار اے بندے
سـرِنیاز ،جـھکا ! "ربَّنا ظَلَمنا” پڑھ
نہ ہونےدینگے،کبھی تجھکو خوار،اے بندے
برستی رہتی ہے "فاستَغفِرُوا” کے عامل پر
"لقد عفا کی بہشتی ” کی پھوار، اے بندے
گناہ چھوڑ ! اَلَم يَأنِ للذينَ” کو دیکھ
ملےگا ذکر سے میرے ، قرار اے بندے
کِھلےہیں گلشنِ "تُوبُوا” میں "تُفلِحونْ” کے پھول
قدم بڑھا کے ، تُو ہو مشکبار اے بندے
طریقہ سیکھ ! مرے صالحین بندوں کا
ملےگی تجھکو کرم کی بہار اے بندے
جومیرےنیک ہیں اُنکی پناہ، میری پناہ
رکھ اُن سے رشتۂ دل اُستُوار، اے بندے
تواپنےحال پہ خوش ہے، گناہ کر کے بھی
مطیع روتے ہیں، زار و قطار اے بندے
سدارہے، تجھے شرمندگی گناہوں پر
سدا رہـےتری آنکھ ، اشکبار اے بندے
اِن آنسووں سےجہنم کی آگ بجھتی ہے
تو میرےخوف سے رو ، بار بار اے بندے
ہرایک اشکِ ندامت ، ہے قرب کاموتی
یہ آنسو،خودہیں ترے غمگسار اے بندے
اِسی لیےتجھےتوبہ کا حکم میں نے دیا
کروں میں تجھپہ کرم، بے شمار اے بندے
یہاں خلوص کبھی رائیگاں نہیں جاتا
"ریا”کوچھوڑکے بَن ! خاکسار اے بندے
جھکی رہیگی جبینِ نیاز، گر تیری
جُڑے رہیں گے عطاوں کے تار اے بندے
تری وفاکاچمن سوکھنے نہیں دونگا
سدا رہےگی عنایت کی دھار، اے بندے
اگرتجھـے، ترے اعمال سے ملی ذلت
عطاکروں گا تجھے، پھر وقار اے بندے
گُلِ کرم،ترےصحرائےدل میں پھولیں گے
نکال پھینک ! گناہوں کے خار اے بندے
ہےظالموں کی ہلاکت، ترے لیے عبرت
کہ باغیوں کاٹھکانہ ہے نار ، اے بندے
مری رضاکی ڈگرپر فریدی توبھی چل
نیازمندوں سےمجھکو ہے پیار اے بندے







