10 رمضان المبارک

ramzan shareef shayari by fareedi misbahi

یوم وصال ام المومنین ، مخدومۂ کائنات حضرت سیدہ خدیجةالکبری رضی اللہ عنہا …

تمام اہل حق ، اُس عظیم ماں کو یاد کرکے اپنی اپنی ماؤں کو زبردست خراج عقیدت پیش کریں …

 تمام بڑوں کی عزت و تکریم کا ہمیشہ کیلیے عہد کریں …
ان شاءاللہ تعالی یہ عمل دارین کی سعادت کا باعث ہوگا…
آپکو یہ عظیم الشان دن بہت بہت مبارک ہو ..

میں نے بھی اُس عظیم ماں کو  منظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے بطورِ خاص ملاحظہ فرمائیں  ،

فریدی مصباحی

*نغمۂ عقیدت*

 

در شانِ مخدومۂ کائنات ،، راحت جان مصطفیٰ ﷺ ، پیکرِ صدق وصفا ، ہلال عزم و یقیں ،  ام المؤمنین حضرت سیدہ طاہرہ عفیفہ خدیجۃ الکبریٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا
"” "” "”

 

تمـام اہلِ وفا پر ہـے سائباں تیرا
جہانِ حق میں ہـے کردار جاوداں تیرا

تری مثال نہیں ، اے خدیجة الکبرٰی
وجودِ پاک، ہے یکتائے دوجہاں تیرا

چراغِ حق کیلیےتیری زندگی ، فانوس
کسی ہَںوا سے نہ ٹوٹا حصارِ جاں تیرا

عفیفہ ، طیبہ ، مخدومہ طاہرہ ہے تو
بہت ہی ستھراہےہر رنگ ، بـے گماں تیرا

ملی ہےچشمِ دوعالم کو تجھ سے بینائ
بنـا ہـے مـرکـزِ انـوار ،، آستاں تیرا

تری بہار،رسالت کی چھاوں میں نکھری
در نبی سـے معطـر ہے گلستـاں تیرا

عروج تیرا، قیامت تلک نہ کم ہوگا
خیال رکھتےہیں سیّاحِ لامکاں تیرا

ترے شَرَف پہ زمانے کا ہر شَرَف قرباں
دلِ رسولِ خـدا، بن گیـا مکاں تیرا

تو استـعارۂ ایثـار و صبر و قربـانی
دلوں پہ اب بھی ہے، کردار حکمراں تیرا

نبی کی جان کاصدقہ بنی تری ہستی
ہے لازوال،، ہر اک رنگِ داستاں تیرا

گُندھے ہیں حلقۂ آفاق میں ترے موتی
کہ نامِ پاک ہے تسبیح اِنس و جاں تیرا

ملی ہے تیری تجلی سے دین کو نصرت
ہے نور ، ظلمتِ باطل پہ کامراں تیرا

تری وفائیں ہیں تسکینِ سید الکونین
شَرَف عظیم ہےاے مومنوں کی ماں تیرا

نبی کے نام پہ سب کچھ لٹادیا تونے
وفاشعاری کا جوہر ہے بـے کراں تیرا

رقیہ زینب و کلثوم و زہرا کی اَمّی
ہے افتخار دو عالم یہ خانداں تیرا

تری حیات ہے اسرارِ مصطفیٰ کی امین
قسم خدا کی، معزز ہے ہر نشاں تیرا

مرے نبی پہ، ترے گھر میں آیتیں اتریں
بہت عزیز ،،، خدا کو ہـے آشیاں تیرا

بلندیاں ترے قدموں پہ سر خمیدہ ہیں
ہر ایک ذرۂ پا ، رشـکِ آسمـاں تیرا

کہ جس سے تازہ ہے گلزار عظمتِ نسواں
سـدا ہـے بحرِ شرافت رواں دواں تیرا

جھلک ہے جسمیں، خواتین کے تقدس کی
ہـے اب بھی نیّـر کردار ، ضوفشـاں تیرا

سرِ نیـاز جھکا ہـے ، تمام امت کا
کہ دیں کے واسطے،احسان ہے گراں تیرا

ڈرےگا کیا کوئ مومن ، بھلا مصائب سے
کہ جب ہےسرپہ، اے ماں دست مہرباں تیرا

تری ثنا سے تو عاجز ہے یہ تفکُر بھی
قلم فریدی کا، کیسے لکھے بیاں تیرا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔