پیکر جرات و ایثار، شیر رسول اللہ ﷺ، سید الشہداء حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان میں خراج عقیدت و محبت..
یوم شہادت ١٥ شوال المکرم بمقام میدان احد مدینہ منورہ
تسخیر فنا حمزہ، تعمیر بقا حمزہ
قرطاس شجاعت پر، تحریر وفا حمزہ
یوں بدر کی وادی میں کفار کو للکارا
باطل کو ڈراتی ہے اب بھی وہ ندا حمزہ
سرکار نے بخشا تھا پرچم جو قیادت کا
لہراتا ہے عالم میں اب بھی وہ لوا حمزہ
کیا شان تمہاری ہے کیا رعب تمہارا ہے
سرکار دو عالم کے محبوب چچا حمزہ
بیباک تری ہستی، غیور تری فطرت
جاں باز ہے دل تیرا اے شیر خدا حمزہ
سرداری تمہیں حاصل، ہے سارے شہیدوں کی
یوں حق کی حفاظت میں کی جان فدا حمزہ
اللہ نے فرمایا سرکار سے لا تحزن
غم تیری شہادت کا کچھ ایسا ہوا حمزہ
احسان نہ بھولےگا میدان احد تیرا
ہے اُس کی شبِ جاں میں اب تیری ضیا حمزہ
جو وقت گزارا ہے سرکار کی قربت میں
دارین میں شئ ہے اب اس سے سوا حمزہ
کونین منور ہیں سیرت کی تجلی سے
اے زیبِ سخا حمزہ، اے کانِ حیا حمزہ
شاہد ہے ترا روضہ، سرکار کی آمد کا
خود آکے شہ عالم دیتے تھے دعا حمزہ
اسلام کے دشمن پر طاری ہے تری ہیبت
کردار و عمل تیرا باطل کی قضا حمزہ
تم شمع نبوت کے پروانوں کے قائد ہو
قدموں میں جھکے ہیں سب ارباب رضا حمزہ
جس شخص کے سینے میں روشن ہے تری الفت
کیااس کو ڈرائیں گے یہ اھل جفا حمزہ
جرات کے ستاروں سے پرنور ڈگر تیری
ہر لمحہ دفاع حق مشرب ہے ترا حمزہ
تاریخ نہ بھولے گی اے مرد جری تجھ کو
چلتی ہی رہے گی اب یادوں کی صبا حمزہ
خورشید نبوت سے آئ ہے چمک تجھ میں
مدھم نہ کبھی ہوگا اب تیرا دیا حمزہ
افکار سنور جائیں الفاظ نکھر جائیں
اشعار پہ کر دیجے اک چشم عطا حمزہ
ہر دشمنِ ملت پر،غالب ہو فریدی بھی
پہنائیے اب اسکو نصرت کی عَبا حمزہ








Mukhtar ki tabiyat zyada kharab he aap Sab unke