آپ کو اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو گیارہویں شریف بہت بہت مبارک ہو
شہِ بغداد کی بےمثل سیرت یاد آتی ہے
ہمیں غوث الورٰی کی شان و شوکت یاد آتی ہے
حسَن کاحُسن پایا اور حُسینِ پاک کی سیرت
اُنھیں دیکھو تو دونوں کی وجاہت یاد آتی ہے
نظر میں لوحِ محفوظ اور قدم ولیوں کی گردن پر
مچل جاتاہںے دل ، جب اُنکی عظمت یاد آتی ہے
نبی کاہاتھ اُن پر، اور اُنکا سارے عالَم پر
شہ جیلاں کی یہ شانِ نِیابت یاد آتی ہے
جِلایا آپ نے مُردوں کولفظِ "قُم بِاِذنی” سے
ہمیں، مُردے جِلانے کی کرامت یاد آتی ہے
وہ جب چاہیں،جہاں چاہیں،پہنچ جاتےہیں لمحوں میں
گئے ستّرکے گھر ؛ ہمکو وہ دعوت یاد آتی ہے
عقیدت مند کو گرنے سے پہلے تھام لیتے ہیں
ہمیں انکی رَسائ اور حمایت یاد آتی ہے
نِکالی مدتوں کے بعد بھی بارات دریا سے
خدا نے جو اُنھیں بخشی وہ قدرت یاد آتی ہے
جمال زندگی سے حُسن خُلق مصطفی ظاہر
جلال ایسا کہ فاروقی عدالت یاد آتی ہے
صداقت میں، وہ اپنے وقت کے صدیق اکبر ہیں
شجاعت دیکھر حیدرکی جرأت یاد آتی ہے
کرم ایسا،کہ دیدیں چور کوابدال کا منصب
عطا ایسی کہ عثماں کی سخاوت یاد آتی ہے
کیا بـے خوف اپنوں کو مُرِیدِی لاَ تَخَف” کہکر
عَزُومٌ قَاتِلٌ”سے اُنکی نصرت یاد آتی ہے
فقط انساں ہی کیا، جِنّ و مَلَک بھی جسکو سنتے تھے
زبانِ حق بیاں کی وہ خطابت یاد آتی ہے
زمانہ سید الطرفین کے اعزاز پر قرباں
رسول اللہ سے اُنکی قَرابت یاد آتی ہے
شہِ کونین کے نقشِ قدم پر ہر قدم اُن کا
ہمیں انکی قیادت اور امامت یاد آتی ہے
چمک اُٹھّےدر و دیوار، سارا گھر مہک اُٹھّا
مرے گھر غوث کے آنے کی برکت یاد آتی ہے
ٹپکتی ہںے فریدی کے قلم سے غوث کی اُلفت
پڑھو اشعار تو اُنکی فضیلت یاد آتی ہے







