احتجاج کا اثر چہرۂ حاکم پر
ہمارے نعروں کی آہٹ سے جھوٹ کا شیشہ گرا زمین پہ اور ہوکے چٗور ،، ٹوٹ گیا اُڑی اُڑی سی […]
ہمارے نعروں کی آہٹ سے جھوٹ کا شیشہ گرا زمین پہ اور ہوکے چٗور ،، ٹوٹ گیا اُڑی اُڑی سی […]
سِواے موت ، کوئ بھی خبر نہیں آتی یہ کیسی شب ہے کہ جس کی سحر نہیں آتی حیات سخت
کفن بَدوش ، نِکلنے کا وقت آیا ہے نِظامِ ظُلم ، بدلنے کا وقت آیا ہے لہو ، جو دوڑ
پروانۂ دل ، شمعِ نبوت پہ فدا ہے ہستی مری ، ناموسِ رسالت پہ فدا ہے جو کچھ مجھے مولیٰ
اٹھا سکتے ہیں غم کا بوجھ ہر تکلیف و شدّت پر مگر ہوگا نہ ہم سے صبر ، توہینِ رسالت