بمو قعہ یوم وصال حضرت سید نا ابوبکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سِکھائے بارگاہِ مصطفٰی کے پیچ و خَم تو نے
دیا اہل محبت کو صداقت کا عَلَم تو نے
ترا دستور ، اے صدیقِ اکبر مٹ نہیں سکتا
رہِ ایماں کو بخشے ، خوشنما نقشِ قدم تو نے
شبِ ہجرت، نبی کے ساتھ غارِثور میں جا کر
پہاڑوں میں بنایا ہے محبت کا حرم تو نے
لگا کر پُرخَطَر سوراخ میں اپنے انگوٹھے کو
وفـاؤں کی نئ تاریخ کرڈالی رَقَم تو نے
نبی کاسر، تری آغوش میں تھا ،، واہ کیا کہنا
شہا ! کیا خوب پائ قربتِ خیر الامم تو نے
ترے آنسو رخِ سرکار کو چھوکر بنے گوہر
بدل ڈالے گُلِ راحت سے اپنے خارِ غم تونے
نبی کی قربتیں تھیں اور "لَاتَحْزَن” کا نغمہ تھا
گزارے غار میں لمحات کتنے محترم، تونے
تو پروانہ صفت ، شمعِ نبوّت پر مچلتا تھا
طوافِ عشق فرمایا ، مسلسل دمبدم تو نے
نبی کا عکس ، تیرے پیکرِ جاں میں اُتر آیا
محبت میں محبت کو کیا کچھ ایسے ضَم تونے
ترے کردار کا گلزار ، سوکھے گا نہ محشرتک
زمینِ دل کو آبِ عشق سے رکھا ہے نَم تو نے
ترے ایثار پر اہلِ وفا حیرت میں ڈوبے ہیں
کہ جاں پرکھیل کر ، رکھّا محبت کا بَھرَم تونے
ہراک طوفانِ باطل سے وفائیں لڑگئیں تیری
نبھایا دوستی کا حق زمانے سے اَتَم تو نے
نبی کے عشق میں تو آگ کے دریا سے بھی گزرا
مگر باطل کے آگے سر کیا ہرگز نہ خَم تو نے
سخاوت کا ہنر سیکھے ، ترے کردار سے دنیا
لُٹائے مصطفیٰ پر ، جان و دل، جاہ وحَشَم تو نے
متاعِ قلب وجاں ، دستِ نبی میں سونپ کر اپنی
رضاے مصطفٰی کو، کر لیا اپنا حَکَم تو نے
رہے گی یاد ، اے صدیق اکبر تیری قربانی
گلستانِ وفا کو ، کردیا رشک اِرَم تو نے
نبی کے بعد ، پیدا کی گئ تھیں شورشیں لیکن
کُچَل ڈالے بڑی ہمت سے، فتنوں کے صنم، تو نے
نہ کیوں اشعار کے دریا میں سچائ کی موجیں ہوں
فریدی کو دیا ہے ، حق بیانی کا قلم تونے
از محمد سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی، نوری مسجد، مسقط عمان








ماشاء اللہ بہت عمدہ اللہ تعالی کامیاب فرمائے
اے اللہ جب بھی میں تیری رحمت دیکھتا ہوں
تو بس میں اپنی بخشش کا سہارا دیکھتا ہوں
میرے گناہ تیری رحمت میں چھپ جاتے ہے
جب میں تیری رحمت کی طرف دیکھتا ہوں
جب تو کہتاہےمیں تیری شہ رگ سے بھی قریب ہو
تو پھر میں تجھ کو اپنا محافظ دیکھتا ہوں
جب میں گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہوں
پھر میں تجھے غفور الرحیم دیکھتا ہوں
تیرا محبوب نبیﷺاحسان عظیم ہے ہم پر
تو میں خود کو خوش نصیب امتی دیکھتا ہوں
اسکی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوناقاری سہیل
تجھ پہ میں اس کی رحمتوں کا نزول دیکھتا ہوں