غمِ تاج الشریعہ میں روتی بلکتی آنکھوں کا احوال ، اشعار کی زبان میں
اُنہی کے دَم سےتھی ساری بہار آنکھوں میں
اداسی چھائ ہـے اب، سـوگـوار آنکھوں میں
طلب رہیگی قیامت میں ان سےمِلنے کی
رہیگا مرکےبھی اب انتظار آنکھوں میں
نکل رہےہیں دل وجاں، بصورتِ آنسو
کہ غم بھی ، غم سے ہوا اشکبار، "آنکھوں میں”
سبب یہ ہےکہ بآسانی خونِ دل نکلے
اُتر گیا ہے دلِ بیقرار ، آنکھوں میں
نچوڑ دیتامیں بینائ، اشک کے ہمراہ
مگر بسے ہیں مرے تاجدار آنکھوں میں
سمایا تاجِ شریعت کا خوشنما چہرہ
بشکلِ نَیَّرِ نصف النھار ، آنکھوں میں
ادب سے اُن پہ مکمل نظر نہیں ڈالی
یہ جرأتیں کہاں اِن خاکسار آنکھوں میں
وہ اک نظـر سے مقدر سنوار دیتے تھے
عجب تجلی تھی اُن غمگسار آنکھوں میں
سبق ہے انکی نگاہوں کا ہر اتار چڑھاؤ
نصابِ عشق ہے اُن شاہکار آنکھوں میں
نظرکو تیز کریں تو جہاں سہم جاے
جو نرم کرلیں تو آئے قرار آنکھوں
ذرا بھی حق سے جدائ اُنھیں نہ تھی منظور
صداقتوں کا تھا اک کوہںسار آنکھوں میں
عدو کوعظمتِ اختر دکھائ دے کیسے
بھرا ہےبغض وحسد کا غبار آنکھوں میں
وہ جسکےپاس امانت ہے "دیدِ مرشد”کی
وہی نگاہ ہـے بِہتَر ، ہزار آنکھوں میں
رضا کےباغی سے میرا نہیں کوئ رشتہ
لگا کے رکھا ہے یہ اشتہار آنکھوں میں
جہاں کوشیشۂ فکرِ رضا سے دیکھتا ہوں
ہے پختگی، مری ایمان دار آنکھوں میں
نظرمیں نقش ہے تاج الشریعہ کا پیکر
بسی ہے رحمتِ پروردگار آنکھوں میں
پہنچ نہ پایا تو رہ رہ کے جاں سِسَکتی ہے
وجود روتا ہـے زار و قطار آنکھوں میں
نہ دیکھ پانےکا کَفّارہ کب ادا ہوگا ؟
سوال ہے یہ ، مری قرضدار آنکھوں میں
بہیں گےاب غمِ مرشد میں عمر بھر آنسو
کہ جوش پر ہے عقیدت کی دھار آنکھوں میں
فریدی ! چشمِ وطن کو وہ درد کیامعلوم
جو غم بھرا ہـے ، غریب الدّیار آنکھوں میں
از محمد سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی. مسقط عمان







