ایسے تھے ہمارے پیر یادِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمة

یہ منقبتِ پاک ، جسے عقیدت مندوں نے بیحد پسند کیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں

 

تاروں میں چمکتا چاند ، اور ظلمت میں تنویر
ایسے تھے ہمارے پیر

سورج کی طرح روشن ، سچائ کی اک تصویر
ایسے تھے ہمارے پیر

دریاؤں کے جیسا تھا، چلنے کا ہنر اُن میں
کرپاٸ نہ قید ان کو ،  راہوں کی کوٸ زنجیر
ایسے تھے ہمارے پیر

"اختر” کی تجلی پر  ” ازہر”بھی ہوا نازاں
کعبے کے بنے مہماں،  اور خوب ہوئ توقیر
ایسے تھے ہمارے پیر

جب تاجِ شریعت کی ، رحلت کی خبر آئ
ہر جاں پہ گری بجلی ، ہر دل کو لگا اک تیر
ایسے تھے ہمارے پیر

دم روکے ہوۓ دنیا ، سنتی تھی خطاب ان کا
تھم جاتا ہر اک منظر ، جب کرتے تھے وہ تقریر
ایسے تھے ہمارے پیر

خاموشی بھی حضرت کی ، بھاری کٸ خطبوں پر
پتھر بھی پگھل جاٸیں ، تھی بات میں وہ تاثیر
ایسے تھے ہمارے پیر

خوشبو کے تلفظ پر ، ہو چاروں طرف خوشبو
وہ کہدیں زباں سے نور ، تو پھوٹ پڑے تنویر
ایسے تھے ہمارے پیر

روضہ ہے بریلی میں ، پر سب پہ ہے چشمِ فیض
ہے دست کرم ان کا اک سایۂ عالمگیر
ایسے تھے ہمارے پیر

حق گوئ سے باطل پر ، تاعمر رہے غالب
ہرجنگ میں وہ جیتے ، بـے خنجر و بـےشمشیر
ایسے تھے ہمارے پیر

کردار سراپا عشق ، افکار سراپا علم
ہر رنگِ حیات انکا ، اعزاز  کی اک تفسیر
ایسے تھے ہمارے پیر

یوں پردۂ عالم پر ، وہ ذات چمکتی تھی
جیسے کہ سیاہی میں ، اک نور بھری تحریر
ایسے تھے ہمارے پیر

وہ زینتِ بزم فـن  ،  اور مـرجـعِ اہلِ حــق
وہ شاہ تھےشاہوں کے،اور میروں کےتھے اک میر
ایسے تھے ہمارے پیر

سرکار کی الفت کو ، سینوں میں کیا بیدار
بس ایک نظر ڈالی ، اور دل کی ہوئ تطہیر
ایسے تھے ہمارے پیر

کیا شانِ غِنا ان کو ، اللہ نے بخشی تھی
خاطر میں نہیں لاۓ ، وہ تخت و زر  و جاگیر
ایسے تھے ہمارے پیر

ہستی میں جمال حق ، ہر رُخ سے نمایاں تھا
سچوں کے لئے گلزار ، جھوٹوں پہ وہ آتش گیر
ایسے تھے ہمارے پیر

ہوجاٸیں مریض اچھے، اور بگڑے ہوۓ بن جاٸیں
ہر درد و الم میں تھی ، وہ چشم کرم اِکسیر
ایسے تھے ہمارے پیر

صحرا کو چمن کردیں، شعلوں میں کِھلائیں پھول
ذروں سے اجالوں کا ، مینار کریں تعمیر
ایسے تھے ہمارے پیر

گَر اُن سے محبت ہے ، تو ان کی اطاعت کر
سیرت پہ فریدی چل ، بس یوں ہی نہ کر تشہیر
ایسے تھے ہمارے پیر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔