کمالِ اشرف

منقبت درشانِ غوث زماں،  قطب الاقطاب ، رئیس الاولیاء ،   سید الاتقیاء ، نقیب عظمت سادات،  تارک السلطنت ، مخدوم زمانہ،  حضرت شیخ سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی، علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف

عرس پاک … ۲۸ محرم الحرام

 

کیسے ہوپاۓ رقم ، جاہ و جلالِ اشرف
حسنِ سرکار کا جلوہ ہے جمالِ اشرف

مُنکشف اُن پہ ہیں اَسرارِ علومِ حیدر

مظہرِشیـرِ خدا ، فضل وکمالِ اشرف

جنکی جرأت سے ہوۓ وقت کے خیبر مغلوب
شاہِ مرداں کاتصرف تھا بَحالِ اشرف

ہے گُل ذات میں شادابئِ باغِ تطہیر
حشر تک کتنی خوش اقبال ہے فالِ اشرف

ہم سمجھ پائینگےکیا ان کـے قدم کی عظمت
جبکہ ہیں مخـزنِ اعـزاز ، نِعـال اشرف

کیوں نہ ہو زندہ وپائندہ ہر اک رنگ حیات
مَـظہـر سیرتِ آقا ہیں ، خِصال اشرف

سَیر ، نائب بھی ہیں "خَیْرٌلَکَ مِن اُولٰی” سے
فیضِ سرکار سے خوش تر ہـے ماٰلِ اشرف

انکےمیخانے سےحکمت ہے پلائ جاتی
سـاغرِعلم و ہنـر ، جـامِ سِفال اشرف

اشرفی نِیْر”میں ہےانکے قدم کی برکت
"زمـزمِ ہنـد” ہـے ، یہ آب زُلال اشـرف

فلکِ وقت پہ بکھرے ہیں عقیدت کے نجوم
جگمـگاتا ہـے زمانـے میں ہلال اشـرف

ان سےنسبت ہے حقیقت میں نبی سے نسبت
ہـے ہمارے لیے معـراج ، وصال اشرف

مانگنے والے جہاں حسبِ طلب پاتے ہیں
مثل دریا ہےرواں، جود و نَوال اشرف

بزم ہستی میں ہے، کردار یگانہ ان کا
چشمِ افلاک نے دیکھی نہ مثال اشرف

دل کی آنکھوں سےپڑھے جاتے ہیں انکے حالات
مـرشـدِ راہ ہدایت ہـے مَقـال اشرف

ان کا کـردار ہـے آفـاقِ بقـا پر روشـن
گردش وقت سے ہوگا نہ زوال اشرف

جسکی خوشبو سے معطـر ہـے مشـام عالَم
حشرتک پھولے پھلے باغِ عیال اشرف

روشنی جس سے سبھی اہل وفا پاتے ہیں
مِشـعـــلِ بـزمِ کمــالات ہـے  آلِ اشــرف

کہکشاں چرخِ تخیّل پہ چمک اٹھتی ہے
جب بھی آتا ہےفریدی کو خیال اشرف

 

فالِ خوش اقبال.. اچھا شگون ، اچھا اثر ، بلند رتبـے کی ساعت
نِعال.. نعل کی جمع، جوتے
خصال.. عادتیں،طَورطریقے
جام سفال.. مٹی کا پیالہ
آبِ زُلال.. میٹھاخالص پانی ،
مقال.. بات، سخن، تحریر
عیال.. آل اولاد، متعلقین
ماٰل .. انجام، ثمرہ، نتیجہ

 

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔