نظارا تیرا

Nazara tera

چاند بھی چرخ سے کرتا ہے نظارا تیرا
جامۂ نور ملا اس کو اتارا تیرا

بے قدم چل پڑیں ، بے نطق و زباں بول پڑیں
منہ نہیں پھیرتا سرکار پکارا تیرا

رخِ انگشت پہ چل پڑتے ہیں ماہ و خورشید
جب بھی ملتا ہے انھیں ایک اشارہ تیرا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔