نغمۂ حق

Naghma e haq

زیبِ کردار ہیں انوارِ "فَتَرضٰی” تیرے
جُزوِ ہستی ہیں نُجومِ "وَرَفَعنا”تیرے
جھوم کر کیوں نہ کہیں عاشق و شیدا تیرے
"مٹ گئے، مٹتے ہیں،مٹ جائیں گے اعدا تیرے”
"نہ مٹا ہے ، نہ مٹے گا ،کبھی چرچا تیرا”

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔