ہمارے پاس ہیں مرشد

حالات کے سبب اِس سال عرس حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ میں شرکت نہ کرپانے والے تمام عقیدت مندوں کی دل جوئ اور غمگساری کرنے والے اشعار

نگاہِ عشق سے دیکھو ! ہمارے پاس ہیں مرشد
نہ اُن کے ہجر میں تڑپو ! ہمارے پاس ہیں مرشد

وہ چاہت کیا ؟ جہاں دل کی جدائ بیچ میں آئے
محبت ہے تو پھر سمجھو ہمارے پاس ہیں مرشد

نہ پہنچے ہم تو وہ بہرِ کرم تشریف لے آئے
زبانِ شُکر سے بولو ہمارے پاس ہیں مرشد

جہاں بھی ہیں، وہیں سےہم منائیں عرس کی محفل
ترانے گاؤ اور جھومو ! ہمارے پاس ہیں مرشد

غلام اِن کا کبھی باطل سے سودا کر نہیں سکتا
عدو سے جاکے یہ کہدو ! ہمارے پاس ہیں مرشد

تمہارا کچھ اثر ہوگا نہ ہم پر، گردشو ! سن لو
دکھاؤ آنکھ مت ہم کو ہمارے پاس ہیں مرشد

فریدی ہم سدا رہتے ہیں اختر کی تجلی میں
نظر سے دیکھ کر لکّھو ! ہمارے پاس ہیں مرشد

1 خیال ”ہمارے پاس ہیں مرشد“ پر

  1. صابر حسین برکاتی فیضانی ،میڑتاروڑ ،راجستھان

    خلیفۂ دوم عطاے رسول سلطان الہند سرکار غریب نواز رضی اللہ عنہ
    قطب الاولیاء،شمس العارفین،امان الارض،سلطان التارکین،صوفی با صفا ،حضرت شیخ صوفی محمد حمید الدین چشتی فاروقی ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں منقبت تحریر فرما دیں تو یہ بارگاہِ صوفی میں بہترین خراج عقیدت ہوگا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔