یاد شاہ تراب الحق

Yad e shah turab ul haq by fareedi

ترجمان سُنّیت ، ناشر فکر رضا، محافظ ختمِ نبوت ، مرجع العلماء ، نازشِ اہل سنن، خلیفۂ مفتئ اعظم ہند و قطب مدینہ ، پیر طریقت ، مردِ مومن ، مرد حق ، حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ کراچی پاکستان، کی بارگاہ میں خراج عقیدتوصال  4 محرم الحرام 1438ھج، 6 اکتوبر 2016ع جمعرات نوٹ، یہ کلام وصال کے دن لکھا گیا

 

ذی قدر تراب الحق ، ذی جاہ تراب الحق
اَسرارِ شریعت کے ، آگاہ تراب الحق

دکھلائے زمانے کو کردار کے وہ جوہر
حیرت سے پکار اُٹّھے سب واہ تراب الحق

ناموسِ رسالت پر اور ختمِ نبوت پر
دائم ہے ترا پہرا ، اے شاہ تراب الحق

کیا سوز بلالی ہے ، کیا جذبِ اویسی ہے
تو عاشقِ صادق ہے ، واللہ تراب الحق

کردار کے جلوؤں میں کھویا تھا جہاں سارا
افسوس ہوئے رخصت، ناگاہ تراب الحق

ہے بزم سُخن سٗونی ، اور محفلِ فن سٗونی
غمگین ہیں اہلِ حق، اب آہ ! تراب الحق

تو فکرِ رضا کا اک ، بیباک مجاہد تھا
فرقت ہے تری ہم کو ، جانکاہ تراب الحق

سچائ کے رستے پر، جرات سے قیادت کی
تجھ پر نہ چلا "جَبر و اِکراہ” تراب الحق

مومن کے ہر اک دُکھ پر، دل تیرا تڑپتا تھا
کس درجہ تھی ملّت کی، پرواہ تراب الحق

مَدَّھم نہ کبھی ہوں گے، جلوے تری یادوں کے
تو نَیَّرِ ملّت ہے ، اے شاہ تراب الحق

دستورِ عمل تیرا، چھوڑیں گے نہ ہرگز ہم
تا حشر رہے گا تو ہمراہ ، تراب الحق

ذرے تری چوکھٹ کے، ہمدوشِ ثریا ہیں
تو عشقِ نبی کا ہے، اک ماہ تراب الحق

تا حشر رہے تیرے ، مرقد پہ گہر باری
اعزاز تجھے بخشے، اَللّٰہ ،، تراب الحق

کردارِ حسینی کے ، بنتے ہیں جہاں گوہر
ہے "نوری” حرم تیری، درگاہ تراب الحق

ہاتھوں میں ہے جن کے بھی ، اے شاہ ترا دامن
وہ لوگ نہیں ہوں گے گمراہ ،، تراب الحق

اعجاز و شَرَف تیرا ، کیا مجھ سے بیاں ہوگا
ہے فکرِ فریدی تو کوتاہ ، تراب الحق

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔