آج 6 دسمبر ، بابری مسجد ، کشمیر اور امت مسلمہ کے تمام زخموں کو یاد کر کے گیارہویں شریف کے اِس مہینے میں درِ غوث الوری پر ، یہ فریاد نامہ پیش کیا ہے ، جو پوری امت مسلمہ کے
دل کی آواز ہے ۔ میں نے یہ اشعار تڑپتے دل اور اشکبار آنکھوں سے لکھے ہیں آپ بھی پڑھیے اور درد کو محسوس کیجیے ۔۔۔
اُمّت پہ ہے رنج و اَلَم کی زَد
یا غوث مدد ، یا غوث مدد
کر دیجیے ساری بلائیں رَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
قابو میں زمانے کی دھڑکن
قبضےمیں دیا ہے رب نے گگن
ہے نبضِ جہاں پر تیرا یَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
جامہ پہنے لاخَوفُٗ کا
ہےتاجِ سِیادت سر پہ رَکَھا
یوں رب نے بڑھایا تیرا قد
یا غوث مدد یا غوث مدد
حالات کے ماروں کی سن لو
بُجھتے ہوۓ تاروں کی سن لو
ہے جَبر اَندھیروں کا بیحد
یا غوث مدد یا غوث مدد
طوفاں میں ہےملت کی کشتی
ہے تیرے کرم پر آس لگی
ایسے میں تری آجاۓ رَسَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
ہو بابری مسجد پھر تعمیر
شاداب ہو پھر باغِ کشمیر
ہو دشمن دیں پر قہر اشَد
یاغوث مدد یا غوث مدد
سب غوث و قطب ابدال و ولی
کرتے ہیں ثنا تری عظمت کی
سب سے اونچی تیری مَسند
یا غوث مدد یا غوث مدد
فریاد کے آنسو بہتے ہیں
دُکھ درد و اَلَم یہ کہتے ہیں
ہو چارہ گری اے دیں کے اَسَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
کُفّار جـفا پر آمادہ
غدّار صَفِ دشمن میں کھڑا
ڈھاۓ ہے ستم آپس کا حسد
یا غوث مدد یا غوث مدد
زنجیر ستم کی کٹ جاۓ
باطل کا زور سِمَٹ جاۓ
ناکام ہو ہر اک چشمِ بَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
حسنین و علی کے اے پیارے
زہرا کی نگاہوں کے تارے
جانِ حیدر ، شانِ احمد
یا غوث مدد یا غوث مدد
تجھ سے باطل مَغلُوب ہوا
ہر دشمنِ دیں مَرعُوب ہوا
اب پھر سے اٹھے نُصرت کا یَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
ملت کو سنوارا ہے تو نے
یہ باغ نِکھارا ہے تو نے
تری ذات ہے شانِ ربِّ صمد
یا غوث مدد یا غوث مدد
مایوس نہیں شیدا تیرے
ہوں گے نہ گدا رُسوا تیرے
یہ نسبت ہے عزت کی سَنَد
یا غوث مدد یا غوث مدد
ترا کاشانہ آباد رہے
ہر چاہنے والا شاد رہے
یوں ہی چمکے تیرا گنبد
یا غوث مدد یا غوث مدد
مولیٰ نـے دییـے رُتبے ایسے
حاصل ہیں تجھےجلوے ایسے
حیراں ہےفریدی کی عقل وخِرَد
یا غوث مدد یا غوث مدد







